2

ٹاپ 18 ابن عربی | ابن العربی اردو میں اقتباسات 2021۔

شیخ اکبر محی الدین ابن عربی 28 جولائی ، 1165 (AD 508) ، پیر ، 17 رمضان کو اندلس کے شہر میکیا میں پیدا ہوئے۔ ابن عربی صرف 8 سال اندلس میں رہے۔ انہیں ہجرت کرنی پڑی جب انہیں مارسیا میں گرفتار کیا گیا۔وہ مزید 30 سال ہجرت کی جگہ پر رہے اور انہیں ریاضی ، فلسفہ ، فلکیات وغیرہ کا اچھا علم ہے۔ سائنس اس نے اپنے وقت کے نمایاں اساتذہ سے علم حاصل کیا ، تقریبا 70۔فائدہ۔

ابن عربی نے اپنا زیادہ تر وقت جنگلوں ، صحراؤں اور قبرستانوں میں گزارا۔ ابن عربی نے 601 عیسوی میں مشرق کا 12 سالہ سفر شروع کیا۔ مشہور مزاحیہ پٹی “التوجر” میں ، ابن الذکر کے کچھ مشہور اقتباسات عربی کا ذکر کرتے ہیں۔عقاب پرندوں کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں ، عقاب کوے کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں۔میاںابن العربی نے 500 سے زائد کتابیں لکھی ہیں۔ انہیں سلطنت عثمانیہ کے بانی خضر سے ملنے کا اعزاز حاصل تھا۔ ابن العربی واحد اسلامی مفکر ہیں جو لکھتے ہیں۔ ضابطہ کشائیاس نے اور کیا کہا کہ یہ چودہ حروف زمین پر چلنے والے تمام انسانوں کا ڈیٹا ہیں۔ ابن العربی کی عمر 75 سال ہے۔ ان کی وفات 22 ربیع الثانی 638 ھ (9 نومبر 1240) کو ہوئی۔ آپ کو جوار رحمت میں جگہ دے۔ امین۔



اللہ اپنے نیک بندوں کو ہی آزماتا ہے

صبر کرو۔

صبر سے تصوف کے راستے کھلتے ہیں

صبر سے بہتر کوئی معلم نہیں


sabr karo .

sabr se tasawuf ke rastay khultay hain

sabr se behtar koi mualim nahi


محبت ڈھونڈنے والوں کو نہیں بانٹنے والوں کو ملتی ہے

mohabbat dhoandne walon ko nahi

baantane walon ko millti hai



 الحمدللہ کہیے اور یاد رکھیے آپ کی زندگی لاکھوں لوگوں سے بہتر ہے

Allhamdulillah kaheya aur yaad rakhiye

aap ki zindagi lakhoon logon se behtar hai



کامیاب لوگ اپنے فیصلوں سے دنیا بدل دیتے ہیں

اور کمزور لوگ دنیا کے ڈر سے اپنے فیصلے بدل لیتے ہیں

kamyaab log –apne faislon se duniya badal dete hain

aur kamzor log

duniya ke dar se –apne faislay badal letay hain



 سکون اس سے دور بھاگتا  ہے جو دنیا میں سکون کی تلاش کرتا ہے

sukoon is se daur bhagta hai jo duniya mein

sukoon ki talaash karta yai



 ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا

اپنا راز ہمیشہ اپنے سینے میں قید رکھنا خود بھی  چین سے رہو گے

اور راز بھی محفوظ رہے گا

aik baat hamesha yaad rakhna

apna raaz hamesha apne seenay mein qaid rakhna

khud bhi chain se raho ge aur raaz bhi mehfooz rahay ga

ہمارے پاس جو کچھ بچا ہےوہ محض الفاظ
ہیں اب یہ ہم پہ منحصر ہے کہ ہم ان کے کیا معنی تلاش کرتے ہیں

hmaaray paas jo kuch bacha hai woh mehez alfaaz hain

ab yeh hum pay munhasir hai ke hum un
ke kya maienay talaash karte hain


 وہ لوگ جو ماضی میں رہتے ہیں دراصل اپنی ذمداریاں سے بچنا چاہتے ہیں

woh log jo maazi mein rehtay hain

darasal apni zimadariyon se bachna chahtay hain


 انسان کی حفاظت  دراصل اس کی موت کا مقررہ وقت کرتا ہے۔۔

insaan ki hifazat darasal is ki mout ka
muqarara waqt karta hai. .


 اس دنیا میں تم مہمان ہو اور تمہاری آرزوئیں بھی۔

is duniya mein tum maheman ho aur
tumhaarii aarzoyeen bhi .

 ایک دل کو جیت لینا ہزار قلعوں کو فتح کرنے سے بہتر ہے

aik dil ko jeet lena hazaar qlaon ko
fatah karne se behtar hai

 کئی گناہ دنیا میں موجود ہیں پھر بھی یہ دنیا موجود ہے

kayi gunah duniya mein mojood hain phir
bhi yeh duniya mojood hai

 زبان سے اتنا ہی بولو جتنا کان سے سن سکو۔

zabaan se itna hi balow jitna kaan se sun sako

 اگر درد سب سے بڑی نعمت نا ہوتا تو اللہ اسے اپنے محبوب انبیاء کو کیوں دیتا

agar dard sab se barri Nemat na hota to
Allah usay –apne mehboob anbia ko kyun deta

 دنیاوی خواہشات کی مثال ایک سمندر جیسی ہے جتنا ہم اس کا پانی پیتے ہیں

اتنی ہی خواہش  بڑھتی جاتی ہے

dunyawi khwahisaat ki misaal aik
samandar jaisi hai jitna hum is ka pani peetay hain

itni hi khwahish barhti jati hai





دنیا میں تمام لڑائیاں اور تنازعات"  اس وقت شروع ہوئے جب کسی نے " اپنے بھائی کا خون بہایا۔

duniya mein tamam laraiyan aur tanazeaat

is waqt shuru hue jab kisi ne" apne bhai ka khoon bahaya"

 کبھی بھی مخالفت کرنے والوں کو اپنے دلوں میں نفرت کے بیج نہ لگا نے دیں

kabhi bhi mukhalfat karne walon ko
apne dilon mein nafrat ke beej nah laga ne den


 کسی شخص تقدیر کا تعین اس کی کوششوں سے ہوتا ہے

kisi shakhs taqdeer ka taayun is ki
koshisho se hota hai




Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں